نئی دہلی،20؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران کراری شکست کے بعد کانگریس میں اندرونی خلفشار تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ باغی لیڈروں کا گروپ G-23 پانچ ریاستوں میں شکست کے پیچھے پارٹی قیادت کی کمزور حکمت عملی کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ باغی رہنما پارٹی میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
وہیں گاندھی خاندان کے قریبی لوگ ان کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ راجیہ سبھا کے سابق رکن غلام نبی آزاد نے جو G-23 کی سربراہی کر رہے ہیں،کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی اور پارٹی کے اتحاد اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات پر تبادلہ خیال کیاہے۔ ان کی ملاقات کے بعد راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے ان کی تعریف کی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ غلام نبی آزاد برسوں سے پارٹی میں ہیں۔ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ انہوں نے سونیا گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے پارٹی کو ساتھ رکھنے کی بات کی ہے۔ یہ ایک اچھی علامت ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، یہ خوش آئند قدم ہے۔کانگریس لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاہے کہ پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے تنہا گاندھی خاندان کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ اس کے لیے ہم سبھی کانگریسی لیڈر ذمہ دار ہیں۔ملکاارجن کھڑگے نے کہاہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بھی زیادہ تر لوگوں نے اسی بات پر اتفاق کیا تھا۔